Ticker

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

تحریک انصاف کے منحرف اراکین مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر کامیاب ہونگے؟

ُپنجاب ضمنی انتخابات 2022ء

پنجاب اسمبلی کی 20 نشستوں پر ضمنی انتخابات قومی سیاست میں بحث کا مو ضوع ہیں۔ خبر فروشی کے پیشہ سے وابستہ افراد مسلم لیگ (ن) اور تحریکِ انصاف کے درمیان گھمسان کا رن پڑنے کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔

الیکشن کمیشن نے تحریکِ انصاف کے 25 منحرف اراکین کو ان کی نشستوں سے فارغ کر دیا تھا جس کے بعد وہی اراکین ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے پرچم تلے میدان میں اتریں گے۔ تحریک انصاف کے منحرف اراکین میں سے 5 خواتین کی مخصوص اور اقلیتی نشستوں پر جبکہ 20 عام نشستوں پر کامیاب ہوئے تھے۔ ان تمام نشستوں پر17 جولائی کو الیکشن ہوگا۔ ان میں سے 4 نشستیں لاہور میں اور بقیہ 16 جھنگ، لیہ، بھکر، ملتان اور دیگر شہروں کی ہیں۔ پنجاب میں بھرپور انتخابی مہم چل رہی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم صفدرنوازاعوان اورتحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران احمد خان نیازی اپنی جماعتوں کے انتخابی جلسوں سے حسب استطاعت خطاب کرتے پھر رہے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے اویس خان لغاری، ملک احمد خان، خواجہ سلمان رفیق اور سردار ایاز صادق بھی مستعفی ہو کر انتخابی مہم کو آگے بڑھانے کے لئے میدان میں آگئے ہیں۔ حمزہ شہباز یا تحریکِ انصاف کے اُمیدوار چوہدری پرویز الہٰی، پنجاب میں وزارتِ اعلٰی کا فیصلہ ضمنی انتخاب کا نتیجہ کرے گا۔

ویسے تو 2018 کے انتخابات میں بھی تحریکِ انصاف نے جن قابل انتخاب لوگوں کو ٹکٹ جاری کئے ان کا تحریک انصاف کے نظریے سے قطعا اتفاق نہیں تھا اور یہ اُمیدوار اپنے مقامی اثر و رسوخ کی بنا پر کامیاب بھی ہوئے تھے۔ مگرعمران خان نے منحرفین کو سیاست میں وہ درجہ دینے کی کوشش کی ہے کو مذہب میں خارجیوں کو دیا جاتا ہے۔ عمران خان کی اسٹریٹجی یہ تھی کہ منحرفین کو سیاسی منڈی میں اتنا گندا، پلید، ملعون مشہور کیا جائے کہ ان کو سپورٹ اور ووٹ دینے والا لاشعوری طور پر اپنے آپ کو ملامت کرے۔

حنا پرویز بٹ

حنا پرویز بٹ ان (ن) لیگی اراکین میں سے ہیں جنہوں نے ٖتحریکِ انصاف کے منحرف اراکین کو ٹکٹ دینے کی مخالفت کی تھی۔ حنا کا کہنا تھا کہ منحرف اراکین اپنے حلقوں میں مشکلات کا سامنا کریں گے اور ان تحفظات پارٹی کے پرانے اور تجربہ کار ممبران نے ٹکٹوں کی تقسیم کے موقع پرکور کمیٹی میٹنگ کے دوران،نواز شریف کی آن لائن موجودگی میں کیا تھا۔ منحرف اراکین کو ٹکٹ دیےجانے پر پارٹی کے دیرینہ کارکن بے دلی سے انتخابی مہم میں شریک ہیں۔ مسلم لیگ (ن) پنجاب کی مقبول جماعت ہے، مگر منحرف اراکین کے حلقوں میں مسلم لیگ (ن) کے نظر انداز ہو جانے والے اُمیدواروں کا کیا ہو گا؟

عندلیب عباس

دوسری جانب تحریکِ انصاف بھی اپنی کامیابی کے لیے پراُمید ہیں۔ عندلیب کا کہنا ہے کہ اگر مسلم لیگ (ن) اور تحریکِ انصاف کے جلسوں کا فرق ہی دیکھ لیا جائے تو 17 جولائی کا نتیجہ اخذ کرنا مشکل نہیں۔ تحریک انصاف کے حامی چینل عمران خان کا جلسہ دکھا کراپنی ریٹنگنز اور ویورشپ میں بہت زیادہ اضافہ کر چکے ہیں۔ عندلیب کہتی ہیں کہ تحریکِ انصاف نے ان لوگوں کو ٹکٹ دیا ہےجن کی (پاکستان کے لئے نہیں بلکہ) پارٹی کے لیے انتھک خدمات ہیں۔عمران خان کی کوشش ہے کہ لوگ عمرانی بیانیے کو ووٹ دیں۔

ان انتخابات کا اثر وفاق کی سیاست پر بھی پڑے گا۔ ضروری تھا کہ سیاسی جماعتیں اپنے مفادات کو حالات حاضرہ اور ملکی مفادات کے ساتھ ہم آہنگ کرکے اُمیدواروں کو ٹکٹ جاری کرتیں۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے