![]() |
اسلام آباد ہائی کورٹ نے مارگلہ پہاڑیوں میں نیشنل پارک تجاوزات، نیول گالف کورس اور پاکستان آرمی کی آٹھ ہزار ایکڑ زمین کی ملکیت کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔ عدالت نے لکھا ہے فوج اپنے دائرہ کار سے باہر کسی کاروباری سرگرمی میں حصہ نہیں لے سکتی۔
عدالت نے فیصلے میں درج کیا کہ فوج سرکاری اراضی پر ملکیت کا دعویٰ نہیں کر سکتی۔ افواج کی جانب سے قانون کی خلاف ورزی آئینی حلف کی خلاف ورزی ہے۔
اس سے پہلے عدالت نے اسلام آباد کی انتظامیہ کو مارگلہ پہاڑیوں پر قائم مونال ریستوران کو مہر بند کرنے اور نیوی کے گولف کورس پر قابض ہوجانے کا حکم دیا تھا اور ملٹری ڈائریکٹوریٹ فارمز کا نیشنل پارک کی آٹھ ہزار ایکڑ اراضی پر دعویٰ بھی غیر قانونی قرار دیا تھا۔ عدالت نے مشاہدہ کیا کہ اراضی نیشنل پارک کا حصہ تھی جو وفاقی حکومت کی ملکیت متصور ہوگی۔
مونال ریستوران نے عدالت سے حکم پر نظر ثانی کی درخواست کی تھی کہ ریستوران نے زیر استعمال اراضی کیپٹل ڈویلپنٹ اتھارٹی ریسٹورنٹ سے پٹہ پر لی تھی، اور پٹہ داری ختم ہونے کے بعد ملٹری ڈائریکٹوریٹ آف ویٹرنری فارمز نے اس اراضی کو اپنی ملکیت ظاہر کیا ہے۔ ریستوران اپنا کاروبار جاری رکھنا چاہتا ہے اس لیے عدالت فیصلہ کرے کہ تجدید کے لئے ریستوران کہاں جائے۔
فوج کی جانب سے وزارتِ دفاع نے مؤقف اختیار کیا انہیں 1910ء میں متنازعہ اراضی گھوڑی پال کے لیے الاٹ کی گئی تھی۔عدالت نے اس مؤقف کو مسترد کیا اور پوچھا کہ اسلام آباد کے دارالحکومت بننے کے بعد علاقہ کی تمام اراضی انتظامیہ کو منتقل ہو چکی ہے تو آٹھ ہزار ایکڑ پر ابھی تک فوج کا استحقاق کیسے؟ ملٹری ڈائریکٹوریٹ ریستوران سے کرایہ وصول کرنے کا مجاز نہیں اور نہ ہی متعین کردہ حدود سے باہر جی ایچ کیو، آر وی ایف ڈائریکٹوریٹ اراضی کی ملکیت کا دعویٰ کر سکتا ہے۔
عدالت کا کہنا تھا کہ فوج کے افسران نے قانون توڑا، اختیار کا بے جا استعمال کیا اور قومی خزانے کو نقصان پہنچایا۔ ملٹری ڈائریکٹوریٹ کے پاس کمرشل سرگرمیوں میں شامل ہونے یا کرایہ وصول کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ نیوی حکام نے سرکاری اراضہ پر تعمیرات قائم کرکے خود کو تادیبی کارروائی کا اہل کر لیا ہے۔ نیوی گالف کورس غیر قانونی ہے اور سی ڈی اے اور محکمہ جنگلی حیات گالف کورس کی اراضہ اپنے قبضہ میں لینے کی مجاز ہے۔ نافذ شدہ قوانین کی غلط تشریح و توضیح بھی خلاف ورزی شمار ہوتی ہے۔ افواج کا کام جارحیت کے خلاف ملک کا دفاع کرنا ہے اور بہ وقت ضرورت طلب کیے جانے پر شہری اور عمرانی اداروں کی معاونت ہے۔ مسلح افواج تمام ذمہ داریاں سرکار کی اجازت کے بعد سر انجام دے سکتی ہیں۔ قانون کی خلاف ورزی آئینی حلف کی خلاف ورزی ہے۔
پاکستان فوج کے کاروبار میں ملوث ہونے پرعائشہ صدیقہ نامی مصنفہ اپنی کتاب خاکی کمپنی میں لکھتی ہے کہ پاکستان میں سیاسی حکومتوں نے ہی فوج کو کاروبار کی اجازت دی۔ بظاہر اس عدالتی فیصلے کو بنیاد بنا کر سیاسی حکومت ایسی تمام اراضی فوج سے واپس حاصل کرسکتی جس کا فوج کے پاس کوئی قانونی جواز نہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ایسا ہوگا؟ راقم الحروف کے خیال میں ایسا بالکل بھی ممکن نہیں، ، بلکہ اس بات کے امکانات زیادہ ہیں کہ سیاسی حکومت فوج کے قبضہ کو جواز دینے کے لئے قانون سازی کر دے۔

0 تبصرے
LIKE N SHARE