Ticker

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

دینہ کا دھینگ دھونکڑ ----- فئیرویدر فواد

فواد چوہدری کے بہت سے سابقے ہیں جن سے بے پرواہ ہو کر وہ اپنے لاحقوں کے بارے میں زیادہ تگ و دو کر رہے ہیں۔ فواد  نے 2002ء کے انتخابات میں جہلم سے انتخابات میں آزادانہ حیثیت سے حصہ لیا کیونکہ ق لیگ نے ان کو ٹکٹ کا اہل نہ سمجھا۔اس الیکشن میں فواد کو 161 جبکہ چوہدری تسنیم ناصر کو قریب چالیس ہزارووٹ ملے۔

اپنی عبرت ناک شکست کے بعد، دیگر مفصل وکلاء کی طرح اپنی تعلق داری اور رشتہ داری کی بنا پر وکالت کرتے کرتے ایک دن فواد کے چچاؤں، ایک ہائیکورٹ کے چیف جج اور دوسرے مشرف کابینہ کے وزیر، نے فواد کا ہاتھ جنرل مشرف کے ہاتھ میں دیا تھا۔ یوں فواد ایک بار پھر وکالت کے انگنے سے وداع ہو کر آل پاکستان مسلم لیگ پدھارگئے۔

بد آموز تو وکالت (بے جا) اختیارکرنےسے پہلے ہی تھے مگر قلاقنے کی صلاحیت نے موصوف کی سیاست کو جیسے دیسی گھی اور ہینگ کا تڑکہ لگا دیا۔ ادھر بہادر جنرل کے خٔلاف مظاہرے شروع ہوئے ادھر فواد نے پیپلز پارٹی سے معانقہ کرلیا۔ اپریل 2012ء میں وزیر اعظم گیلانی کا معاون اطلاعات مقرر کروائےگیے، تحلیل کے بعد، اگلی وزارت راجہ پرویز اشرف کے ماتحت کی۔ فواد نے پیپلز پارٹی حکومت کے اختتام تک مزے لوٹے۔

جب وفاق میں مسلم لیگ نون کے آثار نظر آئے تو فواد نے جماعت بدلنے کی ایک بار بھر کوشش کی مگر مؤثر حمایت نہ ملنے پر کامیاب نہ ہوسکے۔ ڈان لیکس کے بعد اسٹیبلشمنٹ کا جھکاؤ عمران خان کی طرف ہونے لگا تو فواد نے مزید وقت ضائع کیے بغیر تحریک انصاف کی بس پکڑلی۔

فواد چوہدری کو تحریک انصاف نے ضمنی انتخابات میں قومی اسمبلی کی سیٹ کے لیے ٹکٹ دیا مگر وہ راجہ مطلوب مہدی کے مقابلہ میں پھر ناکام ہوئے اس کے باوجود تبدیلی انقلاب نے 74,819 ووٹ دان کردئیے۔ فواد کوانصافیوں کا ترجمان مقرر کر دیا گیااور پھر شفقت محمود کے استعفی کے بعدپارٹی کے سیکریٹری اطلاعات کی ذمہ داری بھی دلوا دی گئی۔ اس معاملے پر غیور شاہ کا معلومات سے بھرپور کالم یہاں پڑھیئے۔
فواد کی کامیابی کی وجہ اسکی یہ صلاحیت رہی کہ یہ گن اچھے گا لیتا ہے اور مخالفین کو ٹکا کر گالیاں دے لیتا ہے۔ کچھ عرصہ قبل فواد نے بھری محفل میں مبشر لقمان جیسے ریسورس فل آدمی کے جڑ دیا، مبشر بیچارہ تلملا کر بس منہ 
بسورتا رہ گیا کیونکہ وہ فواد کے ہینڈلرز سے بلاوجہ الجھنا نہیں چاہتا تھا۔

جو صحافی فواد کو آئینہ دکھانے کی کوشش کرے اس کو منہ کی کھانی پڑتی ہے بلکہ منہ پر کھانی پڑتی ہے۔ مطیع اللہ جان کو بھی فواد نے اپنے منہ سے جھڑتے پھولوں کا گلدستہ پیش کیا۔ اور اب موصوف نے حنا ربانی کھر کے پہناوے، بناؤ سنگھار اور ان دستی بیگ پر بھی ٹوئٹ کر ڈالا۔ 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے