انڈیا کی حکمران جماعت، بھارتیہ جنتا پارٹی کی رکن اور مرکزی ترجمان نوپور شرما نے ایک ٹی وی چینل کے پروگرام میں اسلام اور نبی کریمﷺ سے متعلق غیر ذمہ دارانہ اور گستاخانہ گفتگو کی۔ مسلمان آبادی کی جانب سے رد عمل کو کاؤنٹر کرنے کے لئے بی جے پی نے پہلے نوپر شرما کی رکنیت معطل کی مگر جب معاملہ ٹھنڈا نہ ہوا تو مظاہرین کی گرفتاریاں ان پر تشدد اور ان کے گھروں دکانوں کو مسمار بھی کیا۔
انڈیا میں ایسے ہونے والے معاملات کوئی نئے نہیں۔ ماضی میں بھی بھارتی مسلمانوں کے قتل، ان پر تشدد اوران کی املاک کو نقصان پہنچانے کے واقعات ہوتے رہے ہیں جس پر کسی بھارتی حکومت نے کبھی کوئی کاروائی نہیں کی۔ بھارت کے منتری موڈی گجرات میں مسلمانوں کی نسل کشی میں براہ راست ملوث پائے گئے
مگر انکوائری رپورٹس دبا دی گئیں۔
گستاخانہ بیان کے بعد نوپر شرما کے خلاف پولیس میں رپٹ درج کرائی گئی جس پر پولیس نے بھارتی ہوم منسٹری کی ہدایات پر نوپر شرما کو تفتیش کے بہانے بلا کر ان کو محفوظ مقام پر منتقل کردیا ہے۔ نوپر شرما بھارتی حکومت کی حفاظت میں ہے اور مزید اشتعال انگیز بیانات جاری کر رہی ہے۔


0 تبصرے
LIKE N SHARE