Ticker

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

ہندوتوا۔۔۔مودی شرکار۔۔نئی پھنکار

مسلمانوں کو فوج سے دور رکھنے کے لیے مودی راج کا ایک اور کالا کاج

اگنی پت 14 جون 2022 کو ہندوستانی فوج میں سپاہیوں کے لیےمتعارف کرائی ایک اسکیم ہے، جس کےتحت بھرتی ہونے والے جوان اگنی ویر کے نام سے جانے جائیں گے، اس اسکیم  سے پہلے ہندوستانی حکومت اپنے سپاہیوں کو 15 سال کی مدت ملازمت اور ریٹائرمنٹ کے بعد تاحیات مراعات اور پنشن بھی فراہم کرتی تھی۔ بھارتی سرکار نے مخلتف حیلوں بہانوں کے تحت 2019 سے ہندوستانی فوج میں بھرتی روک رکھی تھی۔ اب اگنی پتھ اسکیم کے تحت 17.5 سال سے 21 سال تک کے مرد اور خواتین فوج میں بھرتی ہو سکیں گے۔ اس سکیم کے تحت سپاہی کو 6 ماہ کی ٹریننگ دینے کے بعد 4 سال کے لیے بھرتی کیاجائے گا۔4 سال نوکری کے بعد، اس کو فارغ کر دیا جائے گا ، بنا پنشن کے۔ بی جے پی کے سرمچار کہتے ہیں کہ 4 سال بعد فارغ ہونے والے اگنی ویر، پھر سے نئی بھرتی کی درخواست دے پائیں گے۔مگر اس کے ساتھ جڑی ہے ایک شرط۔۔۔نئی بھرتیوں میں صرف 25 فیصد کوٹہ دوسری بار اپلائی کرنے والوں کا ہوگا۔

اس اسکیم کے لانچ کے بعد سے، فوج میں بھرتی کے خواہشمند جوانوں اور مودی سرکار  کے درمیان ٹھن گئی ہے۔ جوانوں نے اسکیم کو قبول کرنے سے انکار کردیا ہے۔ کئی جگہوں پر جلاؤ گھیراؤ کیا گیا۔مودی سرکار نے ایسے لوگوں سے نبٹنے کے لیے پولیس کا بےدریغ استعمال کیا ہے۔

مظاہرین نے ایک جگہ ٹرین کو آگ بھی لگا دی۔ مسلمانوں پر تشدد کرنا ہو، ان کے گھر ،دکانیں مسمار کرنی ہوں، ان کی عورتوں بچوں کو گھر سے اٹھانا ہو، پولیس کے لیے کوئی بڑی بات نہیں۔ 
صوبہ بہار میں پولیس نے ہوائی فائرنگ کی، ہجوم کو روکنے کے لیے آنسو گیس کے شیل برسائے۔ مگر اس بار احتجاج کرنے والے ہندو ہیں اس صورتحال میں مقامی پولیس، سرکار اور مظاہرین کے درمیان بری طرح پھنس گئی ہے۔


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے