اگلے وقتوں میں بڑے بزرگ مختلف الفاظ میں اچھی اور با اسلوب گفتگو کرنے کی نصحیت کر گئے ہیں۔ان کے بعد آنے والوں نے اس نصیحت پر عمل کیا اور اپنے گفتار سے ثابت کیا کہ اچھی گفتگو ہمیشہ متاثرکن ہوتی ہے۔بات کرنے سے پہلے اگر لفاظی، لب و لہجہ ، اور اصول سوچ لیے جائیں تو مطلوبہ اہداف حاصل کرنا ممکن ہو سکتا ہے۔ بلا وجہ کی گفتگو ویسے بھی کرنے والے اور سننے والے کا وقت ضائع ہی کرتی ہے۔
وقت بیتنے کے ساتھ، لوگ دھیرے دھیرے اس نصیحت سے لاپرواہ ہوتے گئے ہیں۔ اس کا خمیازہ پوری دنیا میں میڈیا پر گالم گلوچ، لچ لفنگ، دروغ گوئی، ہجو اور فحش گوئی کی شکل میں دستیاب ہے۔ پاکستان میں ہر سیاسی جماعت اپنے اندر ایسے سیاستدان رکھتی ہے جو ان خصوصیات کے حامل ہیں۔یہ ایک دوسرے کو کیا نہیں کہہ ڈالتے؟ افسوس تو اس بات کا ہے کہ بولتے وقت ان کو اس بات کا بھی پاس نہیں رہتا کہ ان کے سامعین میں کون ہیں، ان کا رتبہ کیا ہے، ان کی عمر کیا ہے، ان کی قابلیت کیا ہے؟
یوں تو آنجہانی فاطمہ جناح کے خلاف سیاسی مہم چلانے والوں نے پہلے ہی ایسے طرز تکلم کو اپنا لیا تھا مگر عرب ٹائمز کے لیے رسول بخش رئیس کا کالم، مرحوم ذوالفقار اے بھٹو سے ٹائم زیرو طے کرتا ہے۔ رئیس نے لکھا کہ پاکستانی سیاست میں الم غلم زباں بازی ستر کی دہائی سے منظر عام پر آئی جب بھٹو مرحوم نے اپنے سیاسی حریفوں کے لیے غیرمناسب اور کافی حد تک ناشائشتہ الفاظ اور لب و لہجہ اپنایا۔
عمران خان بھٹو بننے چل پڑے، شائد ان کی تحقیقاتی ٹیم نے یہ باور کرا دیا ہے کہ بھٹو مرحوم دنیا کے مقبول ترین لیڈر تھے۔ عمران کو دنیا کا مقبول ترین لیڈر سمجھنے والے، ظاہر سی بات ہے، عمران بننے ہی چلتے، سو وہ چلے۔ شیریں مزاری، فواد چوہدری، فیاض چوہان، فردوس عاشق، عثمان ڈار، شیخ رشید، فیصل واوڈا۔۔۔۔۔
نواز لیگ کے پاس عمران خان جیسے یہ لیزر کٹ ہیرے نہ سہی، مگر مغلئی عہد سے چاندی کے دو سکے ضرور ہیں جن میں خواجہ آصف اور رانا ثناء اور ایک حق مغفرت کرے مشاہداللّٰہ مرحوم۔ نون لیگ آنے والے دنوں میں ایسے خاص لوگوں کو منظر عام پر لانے کا منصوبہ رکھتی ہے، کم از کم مریم صفدر اور حمزہ کے بیانات سے ایسا ہی لگ رہا ہے۔ اس کو مزید تقویت عطاء اللّٰہ تارڑ نے پنجاب اسمبلی میں اسپیکر کی کرسی کو انگلی دکھا کر بخشی۔ تارڑ کا کہنا تھا کہ وہ ایسا پھر کریں گے، اس بار شائد بائیں ہاتھ کی لہرائیں۔
سیاسی جماعتیں خواہ حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں ان سے درخواست کرنا تو درکنار توقع بھی نہیں کرنی چاہیئے کہ وہ گفتگو میں ایسی گراوٹ کا سدباب کریں۔ البتہ اس صورتحال سے فکر مند نئے والدین سے یہ گذراش ضرور ہے کہ خدارا اپنی اولاد کو قوم کا مستقبل سجمھ کر پالیں۔

0 تبصرے
LIKE N SHARE