پنجاب میں وزارتِ اعلٰی کے انتخاب کے لیے میدان لگ گیا ہے۔ چوہدری پرویز الہٰی اور حمزہ شہباز شریف مدِ مقابل ہیں۔ انتخابات سے قبل ہی ساری جماعتوں نے ایک دوسرے پر فلور کراسنگ کے الزامات عائد کئے ہیں۔ انصافی فواد چوہدری نے بدھ کے روز ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے تحریکِ انصاف کے ایک رُکن کو 40 کروڑ عطیہ کیے جس کے بعد مذکورہ رُکن ملک سے خروج کر گئے۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نے الزام عائد لگایا کہ تحریکِ انصاف اور مسلم لیگ (ق) نے اراکین کو خریدنے کے لیے کروڑوں روپے کی بولیاں لگائیں۔
تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران
خان جمعرات سے لاہور میں ڈیرہ ڈالے بیٹھے ہیں، عمران نے مسلم لیگ (ق)
اور تحریکِ انصاف کی پارلیمانی پارٹیوں کے اجلاس اور دو ایک خفیہ ملاقاتوں میں شرکت کی۔ مسلم
لیگ (ن) اور تحریکِ انصاف نے اپنے اراکین کو لاہور کے مقامی ہوٹلوں میں
ٹھہرا رکھا تھا، تاکہ آج اجلاس میں شرکت
یقینی بنائی جائے۔ اجلاس کی کاروائی شروع ہونے سے پہلے مہمانوں کا داخلہ اسمبلی میں ممنوع کردیا گیا، لاہور ہائیکورٹ کے حکم کے ، مطابق پولیس کو احاطہ اسمبلی میں داخل ہونے سے منع کردیا۔
ایک طرف رانا مشہود کہتے رہے کہ انصافی اراکین 180 سے کم ہیں دوسری طرف شہباز گل، سابق معاون خصوصی عمران خان کا دعویٰ تھا کہ اُن کے 188 اراکین اسمبلی میں موجود ہیں۔ پی ٹی آئی اورمسلم لیگ (ق) کے ارکان نے مشترکہ اجلاس بلایا اور ایک دوسرے کے ساتھ سیاسی عہدو پیماں کئے۔ مسلم لیگ (ن) نے اپنے ووٹر ارکانِ اسمبلی کو لاہور ایئرپورٹ کے قریب ایک غیر معروف ہوٹل میں ٹھہرایا جنہیں اسمبلی اجلاس کے لئے ''نو شین کوچ'' میں لاد کر لایا گیا۔
ضمنی
انتخابات کے بعد پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی
نے سرِ فہرست ہونے کے باوجود اپنا امیدوار پیش نہ کیا۔
سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ عمران خان نے ایسا اقدام، عثمان بزدار کی غیر معیاری کارکردگی، بشری بی بی کے بچوں اور سابق شوہر خاور مانیکا کی انتظامی امور میں مداخلت، فرح گوگی اور اس کے شوہر کی کرپشن، زلفی بخاری کے راولپنڈی میں اسکینڈل جیس واقعات پر عوام کے منفی ردعمل سے بچنے کے لئے کیا۔ ضمنی انتخابات میں نشستیں ملنے کے بعد اب تحریک انصاف کی سیٹیں 178 ہو گئی ہیں۔ عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کو ملک میں آئین اور قانون کے
مطابق چلنا چاہیے، ذاتی مفادات، عناد، انا کو چھوڑ کرملکی دستور کے مطابق ایسے فیصلے کرنے چاہیے جو ملک میں جمہوری اداروں کو مضبوط کرے۔
عموما جمہوری نظام حکومت میں، جو جماعت اکثریت رکھتی ہو اُس کو حکومت بنانے کا اختیار ہوتا ہے۔ مگر پاکستان کی سیاسی تاریخ شائد دنیا بھر میں منفرد ہے۔ جمہوری رویہ عوام یا ادارے تو دور کسی سیاسی جماعت کی جانب سے بھی نظر نہیں
آیا ۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ تمام جماعتوں سمیت سبھی سرکاری، نیم سرکاری، حتی کے آئینی اداروں نے بھی آئین کے خلاف کام کئے۔ عدالتوں نے آئین سے متصادم فیصلے کیے، فوج نے آئین سے انحراف کیا اس کو معطل کیا۔ سیاسی مبصر اور تجزیہ کار احمد ولید نے شمالی امریکہ کی ایک نیوز ایجنسی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی سیاسی جماعتیں ملکی صورتِ حال کو دیکھے اور سمجھے بغیر فیصلے کرتی ہیں۔ معیشت کا بدحال ہونا، زر مبادلہ کا کم ہونا، بے روزگاری، دہشت گردی، صحت، تعلیم انفراسٹرکچر ایسے مسائل ہیں جن سے جماعتیں اپنے سیاسی اور دیگر مفادات حاصل کرتی ہیں۔
صحافی اور تجزیہ کار مسماۃ نسیم زہرہ کا خیال ہے کہ بظاہر عددی برتری پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ق)
کی نظر آتی ہے۔ مگر سیاسی کشمکش کا بھرپور امکان ہے۔ اِس سلسلے میں زرداری صاحب نے چوہدری شجاعت حسین سے ملاقات کرکے ان کو اپنے موقف پر قائل کرلیا۔ یہ ایک جمہوری رویہ ہےالبتہ روپیوں کا استعمال غیرجمہوری طرز عمل ہے۔ چوہدری شمجاعت حسین اور پرویز الٰہی کے درمیان سیاسی اختلافات بنے ہوئے ہیں۔ اگرچہ مرکز اور صوبائی سطحوں پر مختلف جماعتیں حکومت قائم ہو جانا آئینی اور
قانونی طور پر درست ہے اور ایسی مخلوط حکومتیں قائم رہ سکتی ہیں، مگر ایسا کرنے سے جماعتیں سیاسی طور پر کمزور ہونے کے امکانات ہوتے ہیں۔

0 تبصرے
LIKE N SHARE