آج کے دور میں کوئئِ کسی کے لیے کچھ بھی نہیں کرتا ۔اپنی سگی اولاد بھی ان حالات میں ساتھ چھوڑ جاتی یے کراچی کا ایک ایسا جوڑا جس نے محبت کی نییِ داستان رقم کی ۔ہوا کچھ یوںکہ 36سالا عمرخان اپنی شریک حیات کی قربانی کے مطعلق بتایا کہ مجھے ڈاکٹروں نے جواب دے دیا تھآ کہ میں زیادہ دن اس دنیا میں میں نہیں رہ سکتا کیونکہ میرے گردے خراب ہو چکے ہیںاعر بچنے کی کوِئی امید نظر نہیں آ ری تھی۔ مگر میری بیوی نے میراساتھ نا چھوڑا اور مجھے اپنا گردہ ڈونیٹ کر دیا اور میرا ہر قدم پر ساتھ دے کر ثابت کر دیا کہ شریک سفر ہمدرد ہو تو انسان ہر مشکل سے لڑسکتا ہے۔۔کراچی کے علاقے میں رہنے والی اسما عمر سے جب اس بارے میں پوچھا گیا تو انکا خوش باش چہرا دہکھ کر حیرانی ہوئی کہ کو ئئِ اتنی تکلیف سہہ کر بھی اتنا مطمعین کیسے ہو سکتا ہے تو انہو ں نے کہا کہ جب مجھے جب پتہ چلا کہ عمرکے لیے میرا گردہ موزوں یے تو یقین مانے ہمیں اتنی خوشی ہوئی کے میں بتا نہیں سکتی ۔ اپنا گردہ بنا کچھ سوچے میں نے عمر کے نام کر دیا
اور اس طرح میں نے اپنے بچوں کے باپ کی زندگی بچا لی کہ

0 تبصرے
LIKE N SHARE