
کرسٹافر اور میکلم
چین طویل مدت میں سب سے بڑا معاشی خطرہ ہے

برطانوی انٹیلیجنس ادارے ایم آئی فائیو نے امریکی سراغ رساں ادارے ایف بی آئی کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران بڑے خوفناک انکشافات کر دئیے۔ سفید فام ملکوں کے بڑے کاروباری بلاواسطہ غداری میں ملوث ہیں۔ ٹھیمس ہال، لندن میں دونوں اداروں کے سربراہان نے ایک مشترکہ پریس کانفرس بلا کر مستقبل کے بارے میں برطانیہ اور امریکہ کے خدشات اور تحفظات واضح کردئیے۔ ''چین کے ساتھ کاروبار کرکے سفید فام ملکوں کی کمپنیاں اپنے کارپوریٹ راز چین کے حوالے کر رہی ہیں جس سے آنے والے وقت میں چین امریکہ اور برطانیہ کی منڈیاں تباہ کر دے گا۔ امریکی ادارے ایف بی آئی سے وابستہ کرسٹافر ورے نے کہا کہ امریکہ تائیوان پر چین کے کسی استحقاق کو نہیں مانتا اور کھلے عام چین کی تائیوان میں ساسی اور اقتصادی مداخلت کی پر زور مذمت کرتا ہے۔ امریکہ نے تائیوان میں چین کے طریقہ واردات کا بغور مطالعہ کیا ہے، اور تائیوان کی معیشت کو مفلوج کرنے جیسی مثال تاریخ میں کہیں نہیں ملتی۔
پس پردہ تو دونوں ملک چین کے خلاف ہیں ہی، مگر یہ پہلی بار ہے کہ برطانیہ اور امریکی انٹیلیجنس اداروں نے یوں مشترکہ پریس کانفرنس کرکے چین کے خلاف اپنے اپنے ملک کی جانب سے خدشات پوری دنیا کے سامنے رکھ دئیے ہیں۔ چین اپنی آہنی قتصادی پالیسیوں کی بنا پر تمام سفید فام اور یہودی دیو پیکر سرمایہ دار کمپنیوں کو پچھاڑ چکا ہے۔ دنیا کی معیشت پر چین کے بڑھتے ہوئے کنٹرول سے نپٹنے کے لئے برطانیہ اور امریکہ عرصہ دراز سے چین میں جبری مشقت، عدم مساوات، بیگار کیمپ، ایغور مظالم، تائیوان کے ساتھ اقتصادی تصادم اور ماحولیاتی آلودگی جیسے پرچار کرتے رہے ہیں۔ اس کے باوجود چین نے فی الحال ایسی کوئی بڑی غلطی نہیں کی کہ اقوام عالم اس کے خلاف متحد ہو جائیں۔
کرسٹافور ورے نے کہا کہ چین کی حکومت بین الاقوامی سطح پر کارپوریٹ جاسوسی اور معیشتوں کے استحصال میں براہ راست ملوث ہے، جو ہمارے دونوں ملکوں کے لئے مستقبل میں خطرے کا باعث بنے گا۔ ہم چینی عوام، چینی کلچر کے خلاف نہیں، چین کے طرز حکومت اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف ہیں۔
واضح رہے کہ امریکہ اور برطانیہ ماضی میں اپنی ناپسندیدہ حکومتوں کو گرانے ، یا تبدیل کرانے کے لئے مشہور ہیں، مگر لگتا ہے چین کے خلاف امریکہ اور برطانیہ کے روائیتی داؤ پیچ رائیگاں جا رہے ہیں جس کو دیکھتے ہوئے دونوں ملکوں نے چین کے خلاف اپنے اتحاد یوں اعلان کردیا ہے۔ امریکہ کی بڑی کمپنیاں چین کے ساتھ کاروباری روابط رکھنے پر امریکی سینٹ کا اعتاب جھیل چکی ہیں۔ برطانیہ نے بھی وقتا فوقتا مختلف چینی مصنوعات اور کمپنیوں پر ٹیرف تبدیل کئے ہیں۔ اپنے اس اتحاد میں دنیا کے دیگر ممالک کو شمولیت کی دعوت دیتے ہوئے برطانوی ایجنسی ایم آئی فائیو کے نمائندے کین میکلم نے کہا کہ چین کی کیمونسٹ حکومت، آپ کی ایجادات، دریافتیں، آپ کی ریسرچ، ٹیکنالوجی اور ان سے وابستہ تمام کمرشل حقوق چرانا چاہتی ہے۔
یوکرائین جنگ میں روس کا ساتھ دینے پر، امریکہ اور برطانیہ اسٹیبلشمنٹ میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ ایک ماہ پہلے تک تمام مغربی اقوام نمائندگی کا بیڑہ امریکہ نے اٹھا رکھا تھا مگر اب برطانیہ نے بھی امریکہ کو سہارا دینے کا اعلان کردیا ہے جس کے بعد امکان ہے کہ جلد ہی باقی یورپی ممالک بھی کمر کس لیں گے اور آئندہ چند ماہ یا سال میں باقاعدہ عالمی جنگ کی علامات ظاہر ہوجائیں گی۔
0 تبصرے
LIKE N SHARE