
سابق جج، جاوید اقبال
میں اپنے کئے پر شرمندہ ہوں، اور قوم سے معافی مانگتا ہوں۔ ایسا کہنا ہے سابق منصف، جج، جسٹس جاوید اقبال کا جنہیں لاپتہ افراد کمیشن اور قومی احتساب بیورو کا سربراہ بنایا گیا تھا۔
طیبہ گل کے معاملے کو پبلک اکاونٹس کمیٹی کی جانب سے اٹھائے جانے کے بعد، سابق جج صاحب نے اپنے قریبی قابل اعتماد ساتھی کے ذریعہ میڈیا کو پیغام پہنچایا کہ وہ تمام خواتین کی عزت کرتے ہیں، اور ان کی جانب سے جن خواتین کو دست درازی کا نشانہ بننا پڑا وہ ان سے معافی مانگتے ہیں۔ انسان خطا کا پتلا ہے، اوائل عمری میں پیش آئے واقعات نے جج صاحب کے ذہن پر گہرے نقوش چھوڑے، اسی ذہنی خلش نے ان کو بری عادتوں کا شکار بنا دیا۔ مگر اب وہ باقی عمر توبہ تائب میں گذارنا چاہتے ہیں۔
اپنی طاقت کا ناجائز استعمال کرنے پر جج صاحب کا کہنا تھا کہ، ساری عمر کمائی، کھوکھلی ہی سہی، مگر ساکھ کے یوں مٹی میں مل جانے سے ڈر گیا تھا۔ طیبہ گل کو بھی پہلی خواتین کی طرح کمزور اور ڈر جانے والی خیال کیا تھا۔ میں تہہ دل سے طیبہ اور اس کے شوہر سے معافی مانگتا ہوں۔ جسٹس جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ ان کی جانب سے اسٹیبلشمنٹ کو مصالحت کی پیش کش ہے اور اگر ان کو با حفاظت پاکستان سے انخلاء کی اجازت دے دی جائے تو وہ سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی ٹیم کی جانب سے ان کو بلیک میل کرنے کے تمام تر تفصیلات دینے کے لئے تیار ہیں۔
![]() |
| جسٹس جاوید اقبال اور طیبہ گل |
ان کا کہنا تھا کہ طیبہ گل والے معاملے پر میں نے عمران خان صاحب کو استعفی پیش کردیا تھا جس کی کاپی میرے ریکارڈ میں موجود ہے، مگر خان صاحب کے ارادے اور ہی تھے انہوں نے مجھے تسلی دی کہ یہ معاملہ دبا دیا جائے گا اگر میں بحیثیت سربراہ نیب تحریک انصاف کے خلاف مقدمے زیر التواء لے جاؤں اور اپوزیشن کے خلاف مقدمات میں جیسے ممکن ہو سکے حریفوں کو پابند سلاسل کر دوں۔
ملک سے باحفاظت نکل جانے کے مطالبے پر انہوں نے وضاحت کی کہ ان کو زیادتی کا شکار بنی خواتین اور ان کے لواحقین کی جانب سے مقدمہ بازی کا خدشہ ہے اور مذہبی انتہا پسند کسی کے بہکاوے میں آکر ان کی جان اور مال کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ مزید یہ کہ ان خدشات سے دور ہو کر وہ بارگاہ الہی میں زیادہ خشوع کے ساتھ توبہ کر سکیں گے۔
جاوید اقبال پُر امید ہیں کہ ماضی میں خدمات کے عوض پاکستان کے ارباب اختیار ان کے مطالبات پر غور کریں گے۔

0 تبصرے
LIKE N SHARE