Ticker

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

بھارتی سپریم کورٹ نے نوپور شرما معاملے میں محمد زبیر کی ضمانت منظور کر لی

نوپر اور زبیر

 بھارتیہ جنتا پارٹی کی اہم رکن نوپور شرما کے توہین آمیز بیان کو وائرل کرنے کے الزام میں محمد زبیر نامی بھارتی شہری کے خلاف پورے بھارت میں کئی مقدمات درج تھے۔ پولیس نے محمد زبیر کو گرفتار کر رکھا تھا اور چالان عدالت میں پیش نہیں کیا تھا۔ آج بھارتی سپریم کورٹ نے محمد زبیر کو تمام مقدمات میں ضمانت پر رہا کر دیا ہے۔ محمد زبیر پولیس کے ساتھ تفتیش میں تعاون کریں گے اور تفتیش مکمل ہونے اور مقدمات کے فیصلہ ہونے تک ملک چھوڑ کر نہیں جائیں گے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی، راشٹریہ سوئیامسیوک سنکھ ، بجرنگ دل، ویشوا ہندو پریشد سمیت سبھی ہندوتوا پرچارک پارٹیاں اس فیصلے کے سے بظاہر ناراض دکھائی دیتی ہیں۔ مگر اندر ہی اندر  یہ سب مان رہے ہیں کہ محمد زبیر پولیس کی حراست میں زیادہ محفوظ تھے۔ محمد زبیر پر اودھے پور میں ہوئے ایک درزی کے قتل کا بھی زمہ وار سمجھا جاتا ہے۔

ہندوتوا پرچارک بھارتی پارٹیوں نے پورے بھارت میں ٹیلیفون ہاٹ لائن شروع کرنے کا منصوبہ پیش کیا ہے جس کے ذریعہ اب ہندو کسی بھی مسلمان کے خلاف فون کال کرکے شکائت لگا سکیں گے اور ہندوتوا کے کارکنان مسئلہ حل کرنے کے فوری طور پرروانہ ہوں گے۔

بھارتی جوتشیوں نے 2022ء کو اکھنڈ بھارت کے لئے ایک مفید سال قرار دیا تھا۔ انہی پیشن گوئیوں کے تحت بھارت میں مسلم کش فسادات پھر سے شروع ہونے کی توقع ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے