سری لنکا میں آ یا معاشی بحران جس نے ملک میں ہر انسان کی ہنسی چھین لی ۔سری لنکا نے اس قدر قرض لے لیا کے اتارنا مشکل ہو گیا۔۔70سالوں میں پہلی بار سری لنکا اس قدر برباد ہوا کہ دیوالیہ ہو گیا۔قرض اتارنا تو دور کی بات عوام کے پاس کھانا کھانے کے لیے بھی وسائل نہ رہے ۔سریلنکا کے مرکزی بینک نے اعلان کیا کہ ملک اب دیوالیہ ہو گیا ہے کیونکہ ہم 18می تک قرضوں پر موجود سود ادا نہیں کر سکے ۔سری لنکا کی یہ حا لات اس وجہ سے ہوئی کہ حکومت قرضے پر قرضے لیتے گئی۔بین الاقوامی سطح پر قرضوں کی ادائیگی نہ کرنے کی وجہ سے دوست ممالک بھی ساتھ چھوڑ گئے ۔عوام کا غم اور صدمے سے برا حال ہے کھانے کا نام سن کر لوگوں کا ہجوم دوڑتا ہوا لپک پڑتا ہے۔لمبی قطاریں اور بچوں کی چیخیں سنائی دیتی ہیں ۔بجلی کی قلت سے عوام گھروں کے باہر سونے پر مجبور ہیں۔پٹرول کے حصول کے لے قطار میں لگے لوگوں کی غربت کا عالم دیکھیے کہ انتظار کرتے کرتے ہی جان نکل گئی ۔ آ ی ایم ایف سے رابطے ہو رہے ہیں ۔چین سے لیے گیے قرضوں نے آ ج سری لنکا کو کہیں کا نہیں چھوڑا ۔ہر چیز کی قیمتں آ سمانوں سے باتیں کر رہی ہیں سکول کے امتحانات ملتوی کر دیے گئے ہیں ۔لوگ بھوک اور بنیادی ضروریات کے حصول کے لیے لمبی قطاروں میں لگنے پر مجبور ہیں ادویات کی قلت اور لوڈ شیڈنگ نے سونے پر سہاگا کا کام کیا۔ں ف
.jpeg)
0 تبصرے
LIKE N SHARE