Ticker

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

اسقاط حمل پر امریکی سپریم کورٹ کا یو ٹرن

سپریم کورٹ کے باہر احتجاج

نیولبرل ازم کے تحت حاصل آزادیوں میں، بنا شادی ک جنسی تعلقات کی آزادی بھی ایک ہے۔ فلسفیانہ بحث و مباحثہ اپنی جگہ، مگر امریکہ میں جسم فروشی کو قانونی حیثیت دینے کے لئے بھی امریکی سپریم کورٹ نے ’ رو بنام ویڈ‘ 1973ء کے تاریخی فیصلے میں اسقاط حمل کو آئینی حق قرار دیا تھا اور عورت کو حمل ٹھہرنے کے بعد اسقاط کی اجازت دی تھی تاں آنکہ رحم میں موجود بچہ باہر سانس لینے کے قابل نہ ہو جائے اور اس مرحلے کے بعد بھی مخصوص حالات میں حمل گرا دینے کے حق کو تسلیم کر لیا تھا۔

حال ہی میں امریکی سپریم کورٹ نے اس فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔ امریکی سپریم کورٹ نے اسقاط حمل کے آئینی حق کو ختم کرنے سے ایک دن پہلے، بندوق رکھنے کے حق کی توثیق کی تھی۔ کیوں؟ شائید اس بار کی امریکی سپریم کورٹ کے ججوں کے نزدیک امریکی آئین کی دوسری ترمیم کی تشریح، امریکی تاریخ اور روایات کے مطابق، ہتھیار اٹھانے کے حق کو تو انفرادی حیثیت میں تسلیم کرتی ہے، مگر ایسا تحفظ اسقاط حمل کے حق کو قطعا نہیں۔

اس فیصلے کے مخالف افراد کا سوچنا ہے کہ اسقاط حمل پر سپریم کورٹ کا فیصلہ کی تشریح اس نظریہ کے تحت کی جانی چاہئیے کہ جج اسقاط حمل کو خواتین کی آزادی اور مساوات کا بنیادی عنصر سمجھتے ہیں یا۔ اور سپریم کورٹ کی قدامت پسند اکثریت کے لیے ایسا چورن بیچنا مشکل ہے۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ملک بھر میں امریکی نیولبرل مرد، خواتین و دیگرے نت نئے طریقوں سے احتجاج کر رہے ہیں۔ مرد حضرات کی بڑی تعداد نس بندی سینٹرز سے معلومات اور سرجری کے لئے وقت لے رہی ہے۔ کئی ایک جگہوں پر خواتین مردوں کے ساتھ جنسی تعلق مکمل طور پر بند کرنے کی تحریک چلا رہی ہیں۔ جسم فروشی کے وابستہ خواتین سب سے زیادہ پریشان نظر آرہی ہیں۔ قانونی طور پر منظور شدہ جسم فروش کاروبار اپنے قواعد و ضوابط میں ترامیم کا سوچ رہے ہیں۔

امریکی سپریم کورٹ کے اس فیصلے میں اخلاقی پہلو تلاش کرنے کی بجائے اس کے معاشی اور اقتصادی پہلوؤں کو دیکھنا اشد ضروری ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے