Ticker

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

ماں سے زیاد ہیج دکھائے ، پھپھے کوٹنی کہلائے

  دعا زہرہ کے کیس میں ایک انتہائی اہم پیش رفت ۔ایک مجبور باپ جو قرآن پر ہاتھ رکھ کر اپنی سچائی کی قسم اٹھاتا رہا لوگوں نے انہیں تنقید، دلاسے اور طنزیہ فقروں کا نشانہ بنایا۔ ایک بے بس ماں جو پولیس کے نرغے میں گھری اپنی بیٹی کو دور سے دیکھ کر روتی، بلکتی اور ترستی رہی۔

پروردگا کی لاٹھی بے آواز ہے۔ دعا کو بہکانے والے اپنے ہی جھوٹ کی دلدل میں پھنس گئے۔ نکاح کے وقت دعا کو ورغلانے والوں نے لڑکی کی عمر زیادہ لکھوائی تھی۔ دعا کے والد نے ہر جگہ استدعا کی کہ انکی بیٹی کی عمر غلط بتائی جا رہی ہے۔ بالآخر عدالت کے حکم پر میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا اور دعا کا طبی ملاحظ کرایا گیا۔ بفضل تعالی اس میڈیکل بورڈ میں زنیرا ماہم جیسے ڈاکٹر شامل نہیں تھے، نتیجتا بچی کی عمر ١۴ سے ١۵ سال نکلی۔ 

عقل کل بنے، زمینی اور آسمانی قوانین کے مہر بنے یوٹیوبرز نے چپ سادھ لی ہے۔ جیسے ان کے موکلات کو کسی شہابیے نے آلیا ہو۔

اس مقدمہ کے حقائق پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرنے پر زنیرا ماہم اور اسکے ہمنواؤں کے خلاف سخت تادیبی اور قانونی کاروائی کی ضرورت ہے۔ یوٹیوبرز اور سوشل میڈیا پر کلکس اور لائکس لینے کے اور بھی طریقے ہیں مگر ان کا اپنایا ہوا طریقہ نہ صرف ایک خاندان بلکہ پورے معاشرے میں بگاڑ پیدا کررہا تھا۔

زنیرا ماہم نے دعا کے معاملے کو سستی شہرت کا وسیلہ جان کر، اس کے حقائق کو چھپایا بلکہ جھوٹ اور مبالغہ پر مبنی مواد اور بیانات کے ذریعہ کیس کو الجھانے کی کوشش کی اور عوام میں دعا کے والدین کے خلاف جذبات اور خیالات کو فروغ دیا۔


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے