جینو سائڈ واچ نامی تنظیم کی بنیاد رکھنے والے ڈاکٹر گریگوری اسٹینٹن نے بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نسل کشی کے خدشہ پر خطرے کی گھنٹی بجا دی۔ بھارت میں ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے مسلمانوں پر کئے جانے والے پُر تشدد حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ بھارتیہ سرکار کی جانب سے ایسے واقعات کی بہت کم مذمت کی جاتی ہے۔ بھارت میں مسلمانوں کی اس متوقع نسل کشی کی پیشن گوئی کرنے والے ڈاکٹر گریگوری نے، 1994ء کے رووانڈا میں ہوئے توتسی قتل عام کی بھی برسوں پہلے پیش گوئی کی تھی۔ امریکی کانگریس کو دی جانے والی بریفنگ کے دوران ڈاکٹر گریگوری نے بتایا کہ کہا کہ بھارتی ریاست آسام اور بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں نسل کشی کی ابتدائی علامات اور عوامل موجود ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ نشانیاں ایک بڑے اور ہولناک قتل عام کی جانب اشارہ کرتی ہیں۔ اسٹینٹن نے کہا کہ نسل کشی کوئی حادثاتی واقعہ نہیں ہوتا بلکہ ایک سوچا سمجھا اور مرحلہ وار عمل ہوتا ہے۔ مودی سرکار کی پالیساں ان پر سرکاری اداروں کا ردعمل، میانمار میں مسلمانوں کے خلاف حکومت کے امتیازی سلوک سے مثاثلت رکھتا ہے۔بھارتیہ جنتا پارٹی کے سربراہ مودی کی سرکار نے گذشتہ سات دہائیوں سے کشمیریوں کو حاصل خصوصی خودمختاری سے محروم کردیا تھا اور ساتھ ہی ساتھ شہریت کے قانون میں ترمیم کرکے بھارتیہ مسلمانوں کو اقلیتی شہریت سے خارج کردیا تھا۔ اسٹینٹن، نے کہا کہ انہیں خدشہ ہے میانمار ، روہنگیا والے واقعات بھارت میں دہرائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوتوا کا نظریہ بھارت کی جڑوں میں بیٹھ چکا ہے۔ مودی سرکار ایسے محرکات کی بانی ہے جو قریب مستقبل میں خون آشام قتل عام کی صورت میں منتج ہوں گے۔ اسٹینٹن کے مطابق انہوں نے 1989ء میں رووانڈا کے اس وقت صدر کو خبردار کیا تھا کہ مستقبل قریب میں ان کے ہاں قتل عام اور نسل کشی جیسے انسانیت سوز عمل کا خدشہ ہے کیونکہ اس کی ابتدائی علامات ظاہر ہونا شروع ہوچکی تھیں۔ اور پھر وہی ہوا، کم و بیش 800،000 لاکھ توتسی لوگوں کا رووانڈا میں بے دریغ قتل کیا گیا۔ اسٹینٹن نے بین الاقوامی سطح پر اپیل کرتے ہوئے کہا کہ "بھارت میں ایسا نہیں ہونے دینا چاہیئے۔" جینوسائیڈ واچ 2002ء سے بھارت میں ہونے والے مظالم پر خطرے کی گھنٹیاں بجا رہی ہے۔ بینگالور سے انسانی حقوق کے کارکن، مصنف اور بھارت میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کے سابق سربراہ آکار پاٹیل نے ایک بین الاقوامی نیوز چینل کو بتایا کہ ایسی رپورٹس کو "بہت سنجیدگی سے" لیا جانا چاہیے۔ پاٹیل کے خیال میں بھارت میں شہریوں پر تشدد کی تاریخ سے شبہ ہوتا ہے کہ سرکار خود کچھ ایسا کرتی ہے جس سے (مسلمانوں کے خلاف) تشدد بھڑکتا ہے اور پھر سرکار اسے روکنے کے لیے جان بوجھ کر ناکافی اقدامات کرتی ہے جس سے مسلمانوں سرنگوں رہیں۔ اقوام متحدہ اور بھارت کے ساتھ تجارتی روابط بنائے رکھنے والے ممالک کو اسے سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔نئی دہلی میں مقیم سابق انفارمیشن کمشنر اور ماہر تعلیم ایم ایم انصاری نے اس رپورٹ کو "خطرناک" قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ "خوف بہت حقیقی ہے۔"دیگر ماہرین نے بھی ہندو بالادستی پسند گروہوں کی جانب سے مسلمانوں کی جان اور املاک پر بڑھتے ہوئے حملوں کی مذمت کی ہے۔ گذشتہ سال نومبر میں، ہندو انتہا پسندوں نے سابق وزیر خارجہ سلمان خورشید کے گھر کو آگ لگا دی تھی۔ ہندو مذہبی رہنماؤں کی جانب سے مسلمانوں کے اجتماعی قتل اور ان کے خلاف ہتھیاروں کے استعمال کا مطالبہ کرنے والے ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوتی رہتی ہیں۔ بھارتی سپریم کورٹ نے ریاست اتراکھنڈ میں ہندوتوا کی نفرت انگیز تقاریر پر تحقیقات کا حکم دیا تھا مگر اس سلسلہ میں نہ کوئی رپورٹ منظر عام پر آئی اور نہ ہی کوئی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔ بھارت میں ایک سماجی کارکن اور ماہر تعلیم اپوروانند نے الجزیرہ چینل کو لکھا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی بنائی سرکار میں ملک مسلمانوں اور عیسائیوں کے لیے دنیا کے خطرناک ترین ممالک میں سے ایک بن گیاہے۔ ہندو انتہا پسند اقلیتوں کو جسمانی، نفسیاتی اور معاشی ایذا پہنچانے سے باز نہیں آتے۔ بھارت سرکار ایسے قوانین بنانے میں ملوث ہے جو مسلمانوں کے مذہبی اطوار، کھانے کی عادات اور یہاں تک کہ کاروباری رسوم کو ریاستی جرم کا درجہ دیتے ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سرکار کےترجمان سید ظفر اسلام نے جینوسائیڈ واچ کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسی کوئی چیز موجود نہیں ہے جس کی تصویر کشی کی جا رہی ہے۔ رپورٹ میں بنایا جانے والا تاثر غلط ہے، میڈیا کی طرف سے بہت سے ایسے واقعات کو اجاگر کیا جا رہا ہے جو حقیقت سے بہت دور ہیں۔ظفر کے اس بیان میں ماضی کے واقعات پر خاموشی سے واضع ہے کہ اس کی حیثیت کسی سیاسی خانہ پُری سے زیادہ کی نہیں۔ بھارت کی ایک ارب سے زیادہ آبادی میں مسلمان صرف 14 فیصد ہیں، اور خود کو ہندو دھرم سے جوڑنے والے 80 فیصد سے زائد ہیں۔ مودی سرکار کی نظریاتی ماں ، انتہائی دائیں بازو کی راشٹریہ سویم سیوک سنکھ (آر ایس ایس) نے ہندوؤں کو خبرادار کیا ہی کہ ہندومت چھوڑ کر اسلام اور عیسائیت مذہب قبول نہ کریں، بصورت دیگر ان کے خلاف کاروائیاں کی جائیں گی۔ آر ایس ایس، ہندومت سے کسی اور مذہب میں تبدیلی کو ممنوع قرار دینے کے لئے بھارتیہ سرکار سے کاروائی اور قانون سازی کا مطالبہ بھی کر چکی ہے۔ باوجود اس کے کہ بھارت کی اپنی تاریخ مودی کی بی جے پی کو انتہا پسند ہندو قوم پرستوں کی سرپرستی، پشت پناہی اور مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں پر ظلم و ستم کی حوصلہ افزائی کا مجرم ٹھہراتی ہے، مودی کی پارٹی اور سرکار ان الزامات کی تردید کرتی ہے۔







0 تبصرے
LIKE N SHARE