Ticker

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

پاک فوج کا افسر اغوا کے بعد قتل۔۔۔کالعدم دہشتگرد تنظیم نے ذمہ داری قبول کرلی!

منگل، 12 جولائی 2022ء کو پاک فوج کے افسر یفٹیننٹ کرنل لئیق زیارت سے 15 کلو میٹر دور ورچوم کے قریب مانگی ڈیم کو جاتے راستے سے اپنےایک دوست کے ہمراہ اغوا ہو گئے تھے۔ 

واقعے کے بعد وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے محکمہ داخلہ اور ضلعی انتظامیہ سے فوری رپورٹ طلب کی تھی۔ سکیورٹی حکام نے بتایا کہ ایک ای میل کے ذریعہ کالعدم تنظیم بلوچ لبریش آرمی کے جیئند بلوچ نامی ترجمان نے لکھا کہ پاکستانی فوج کے کرنل لئیق بیگ مرزا دہشتگرد تنظیم بی ایل اے کی تحویل میں ہیں۔

آج 14 جولائی کو سکیورٹی ادارے نے بتایا کہ سرچ آپریشن کے دوران ضلع ہرنائی اور زیارت کے درمیان پہاڑی سلسلے سے ایک لاش ملی جس کی شناخت لیفٹیننٹ کرنل لئیق کے نام سے ہوئی ہے۔

کالعدم دہشتگرد تنظیم نے قتل کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔

وزیرِ اعلی بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے افسر کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ اغواء کاروں کی بہیمانہ کارروائی قابل مذمت ہے جس کا مقصد دہشت اور وحشت کا ماحول پیدا کرنا ہے اور دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کو اپنے ناپاک عزائم میں ناکامی ہوگی۔

 لیویز ذرائع کے مطابق متوفی لیفٹیننٹ کرنل لئیق پاک فوج کے حاضر سروس افسر تھے اور ڈی ایچ اے کوئٹہ میں تعینات تھے۔ زیارت لیویز کے ایک اور اہلکار نے وائس آف امریکہ کو بتایا تھا کہ اغوا کے وقت کار میں خاندان کے اور افراد بھی تھے جن کو چھوڑ کر دہشتگردوں نے لیفٹیننٹ کرنل لئیق اور ان کے ایک دوست کو اغوا کر لیا تھا۔ بلوچ دہشتگردوں نے ناکہ لگا رکھا تھا جہاں انہوں نے لوگوں کے شناختی کارڈ چیک کئے اور کرنل لئیق کو شناخت کے بعد اغوا کیا۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے