دعا ذہرہ کو کون نہیں جانتا اپنے گھر سے کیا نکلی اخباروں کی سرخیاں بن گیی ۔بہت با ہمت ہے دعا کراچی سے بنا کراے کے چلی اور رکشے والا۔تیکسی ڈرایور انتہای شریف انفس ملے کے کیا کہنے ۔راستے میں بھوک پیاس ۔حاجت بھی محسوس نا ہوئی۔وہ عمر جس میں بچیاں مستقبل کے خواب سجاتی ہیں کے ہم ڈاکٹر ۔ٹیچر بنیں گیا،ماں باپ کا سہارا کیا بننا تھا وہ تو ماں باپ کے خلاف ہو گیی۔بار ہا اس لڑکی کو عدالتوں میں گہسیٹا گیا سوال پر سوال پوچھے گے مگر تس سے مس نا ہوی۔ماں باپ کو روتا سسکتا دیکھتی رہی مگر ایک بار بھی دل نا پسیجا۔اتنا اس کیس کو اچھالا گیا کے عوام میں خوف پیدا ہو گیا کے کہیں ہماری بچی کو کو ئ
ی اس طرح اغوا نا کر لے۔مگر دعا زہرا ایک ایسی لڑکی جس کے باپ کی حالت دیکھ کر سارا ملک پریشان ہے سما نیوز کو انٹرویو دیتے ہوے کہتی ہے کے مجھے جینے دیں میں واپس نہیں آنا چاہتی میں ظہیر کے بغیر مر جاوں گی۔اور ظہیر کہتا ہے ک دعا کا ساتھ نہیں چھوڑوں گا اب دعا کی والدہ نے ایک ویڈیو پیغا م میں کہا ہے کے خدارا ظلم مت کریں میری بیٹی میں اپنی بیٹی دیکھیں مجھے میری بیٹی چاہے اس کا کیس عدالت میں ہے عدالت نے نا بالغ قرار دے دیا ہے دعا کو۔آپ چند پیسوں کی خاطر اسں سےغلط بیانات مت دلوایں۔ن
ی۔ ایک دن آے گا جب میری بیٹی میرے پاس ہو گی اور دعا کا مو قف ہے کے اس نے پاک نکاح کیا ہے دعا نے وزےر اعظم سے اپیل کی ہے کے مجھے عدالتوں میں مت گھسٹیں میں ظہیر کے ساتھ ہی رہوں گی ۔میرے ماں باپ مجھے مارتے تھے اور مارنا چاہتے ہیں۔کھء

0 تبصرے
LIKE N SHARE