تیس سال کی جوان عورت کو دن دھاڑے کراچی کے ایر پورٹ سے تین بچوں سمیت اٹھا کر غایب کر دیا گیا ۔کتنے سال اسکی بہن فوزیہ ہا تھ میں اپنی بہن عافیہ صدیقی کی تصویر لےکر ماری ماری پھرتی رہی مگر کسی نے بھی اسے ڈھونڈ کر عصمت صدیقی کے سینے کو ٹھنڈھ نہ ڈالی۔وہ دروازے کو گھ
نٹوں تکتی رہتی اور فوزیہ اپنی ماں کو تسلیاں دیتی رہتی ۔عصمت بیگم نے ہر دروازے پر دستک دی اتنی دی کےا عصاب جواب دینے لگے دروازے پر ذرا بھی آ ہٹ ہوتی تو ماں دوڈ کر لپکتی کہ شاید میری عافیہ آ گیی۔اتنا ظلم ہوا کہ ایک ماں اپنی بیٹی کے لکھے خط بھی نہ پڑیھ سکی ۔کبھی خط امریکہ نے ماں تک پہنچنے ہی نہ دیے اور آ ج عصمت ڈھیروں مٹی تلے جا لیٹی ہے ۔عصمت بیگم صرف عافیہ صدیقی کی ماں نہیں ہماری بھی ماں ہیں مگر ہم شرمندہ ہیں عافیہ صدیقی کو واپس نہ لاسکے ہاےافسوس ر

0 تبصرے
LIKE N SHARE