لکھنؤ کی روپا ریکھا کو یہ بات اتنی آ سانی سے کیسے سمجھ آ گئی جو حکومتی نمائندوں کو سمجھ نہیں آئی۔ 79 سا ل کر روپا لکھنؤ یونیورسٹی میں فلسفہ پڑھاتی رہی ہیں۔2005 میں وائس چانسلر ریٹائر ہوی ہیں ۔ صبح وہ ہاتھوں میں کتا بچوں کی گڈیاں اٹھاے اس عظیم سے نکلتی ہیں کہ شاید آ ج اس معاشرے میں سدھار آ سکے۔وہ لکھنؤ کے گلی کوچوں میں کتابچے تقسیم اس لیے کرتی ہیں کہ کہیں ان کی اس کوشش سے دلوں کی نفرتوں میں کچھ کمی آ ے اور بھارت ایک بار متحد ہو جاے۔روپا کو اتر پر دیش میں ایک موثر آ ساز کے طور پر جا نا جاتا ہے۔اور وہ مز ہبہ انتشار اور مودی کے مظالم کے خلاف جنگ لڑتے ہوے نظر آ تی ہیں۔انہوں نے ایک نجی ٹی وی کو بیان دیتے ہو ے کہا ہے کہ ہم خود غرض اور ظالم بنتے جا رہے ہیں بھارت میں معاملات بہت بگڑ گیے ہیں۔بی جی پی کا کردار بھی اس معاملے میں بہت اہمیت کا حامل ہے ۔وہ پانچ جولائی سے کتابچے بانٹ کر کہ رہی ہیں کہ ہمیں نفرت کی لاٹھی تورنے ہو گی۔اور دوسروں سے پیار کرو اس کتابچے میں درج ہے ک کس طرح ہم سب ہندوؤں اور مسلمانوں نے مل جل کر انگریزوں کے خلاف جنگ جیتی تھی آ ج بھی اسی جز بے کی ضرورت ہے ۔کو
.jpeg)
0 تبصرے
LIKE N SHARE