دعا زہرا کیس میں ہوئی ایک بہت بڑی پیش رفت ۔۔۔دعا زہرہ نے علاقہ مجسٹریٹ کے سامنے بیان دیا کہ اس کو اور اس کی فیملی کو اس کے والدین سے خطرہ ہے اور ڈر ہے وہ اس کومار دیں گے۔ عدالت نے دعا زہرا کو دارالامان بھیجنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس موقع پر زنیرہ ماہم کی جانب سے ایک ویڈیومیں دعا کے والدین پر سنگین الزامات لگائے ہیں۔ اس ویڈیو میں زنیرہ زار وقطار روتی دکھائی دیتی ہے۔ زنیرہ کا اصرار ہے کہ دعا کے والدین پاگل ہو چکے ہیں اور دعا کو ایذا پہنچا سکتے ہیں۔ زنیرہ کا کہنا تھا کہ دعا کو ظہیرسےالگ کیا گیا تو وہ اپنی جان لے سکتی ہے۔ زنیرہ کے مطابق اس کو ایسی باتیں معلوم ہیں جو دعا کے کیس کا رخ موڑ سکتی ہیں مگر دعا کی اجازت کے بغیر وہ کچھ کہہ نہیں سکتی۔
زنیرہ نے خدا کو حاضر ناظر جان کہا کہ دعا کسی گینگ کا شکار نہیں۔
دوسری جانب اقرار حسن کی برداشت بھی جواب دے گئی ہے اور وہ بھی دعا کے کیس سے جڑی لائم لائٹ سمیٹنے میدان میں کود پڑا ہے۔ اقرار نے بتایا کہ کراچی سے ٹیکسی کرا کے لاہور جانے والی کہانی جھوٹ پر مبنی ہے، ظہیر اور اس کا بھائی لاہور سے دعا کو بھگانے کے لئے کراچی پہنچے تھے۔ اس سلسلہ میں زنیرہ کی خدمات خصوصی طور پر حاصل کی گئیں یا زنیرہ کو اندھیرے میں رکھا گیا ، اقرار کا ماننا ہے کہ تفتیش سے ساری کہانی سامنے آجائے گی۔
ملک کی روز بروز بگڑتی معاشی اور سیاسی حالت سے چشم پوشی کرنے کے لئے دعا اور ظہیر کی خبر کافی کار گر ثابت ہو رہی ہے۔
.jpeg)
0 تبصرے
LIKE N SHARE