کس طرف چل پڑا ہے پاکستان؟
مدفون تاریخ میں اس سے بھی تاریک، اور خوفناک حد تک اخلاقیات سے گری ہوئی مثالیں موجود ہیں، مگر جدید ذرائع ابلاغ کے دور میں ایسا واقع اپنی مثال آپ ہے۔
![]() |
| جاوید اقبال اور طیبہ گل |
سال 2019ء میں ایک خاتون نے پاکستان میں عمران خان حکومت کے جاری کئے سیٹیزن پورٹل پر ایک اہم شخصیت کے خلاف درخواست دی۔ سارے ثبوتوں سمیت اس کی ملاقات عمران خان سے کرائی گئی۔ چند روز کے بعد اس اہم شخصیت کی آڈیو اور ویڈیو نجی نیوز چینل کی زینت بن گئے۔ حیران کن طور پر اس اہم شخصیت کے خلاف کوئی کاروائی نہ ہوئی الٹا درخواست گذار خاتون کے خلاف ہی مختلف مقامات پر 30 سے زائد ایف آئی آرز درج ہو گئیں۔
اس اہم شخصیت نے اپنا موقف بڑے صحافیوں کے ذریعہ پیش کیا۔ مگر کوئی بھی باسی کڑھی کھانے کو تیار نہ تھا۔
اس کہانی کا پردہ چاک وفاقی پارلیمان کی پبلک اکاونٹس کمیٹی کے سامنے طیبہ گل نامی خاتون نےاپنے وکیل کے ساتھ پیش ہوکر کیا۔ اس نے الزام عائد کیا کہ سابق چیئرمین نیب، جسٹس ریٹائرڈ، جاوید اقبال نے اس کو ایک سے زیادہ بلکہ متعدد بار ہراساں کیا۔
طیبہ نامی خاتون نے بتایا کہ اس کے شوہر کی چچی لاپتہ تھی جس کی تلاش کے لئے اس نے مسنگ پرسنز کمیشن کو درخواست ڈال رکھی تھی۔ اس درخواست پر طیبہ گل کا موبائل نمبر بھی درج تھا۔ ایک پیشی کے دوران طیبہ کا پالا کمیشن کے اس وقت سربراہ سابق جج، جاوید اقبال سے ہوگئی۔ طیبہ سے ملاقات کے بعد جج صاحب کے اند کا شیطان جیسے جاگ گیا ہو۔ انہوں نے طیبہ کی درخواست پر شنوائی کے لئے چھوٹی چھوٹی تاریخیں مقرر کرنا شروع کردیں اور باقاعدہ کاروائی سے مطلع کرنے کے بہانے اس کے موبائل پر کالز شروع کر دیں۔ باوجود اس کے کہ طیبہ درخواست میں براہ راست متاثرہ فریق نہیں تھی، جاوید اقبال اس کو اصالتا حاضر ہونے کی ہدایات دیتے۔
پیپلز پارٹی دور میں سابق جج کے قومی احتساب بیورو کے سربراہ بننے کے بعد، طیبہ گل کے مطابق، اس کی زندگی میں بھونچال آگیا۔ جاوید اقبال اس کو لاپتہ افراد کمیشن کے دفتر ملنے پر مجبور کرتے۔ حالات کو ڈگر سے اترتا دیکھ کر طبیہ نے سابق جج صاحب کو صاف انکار کردیا اور اس کے خلاف عمران خان سٹیزن پورٹل پر شکائت درج کرا دی، اور سارے ثبوتوں کے ساتھ عمران خان کو بھی ملنے گئی جنہوں نے وہ ثبوت لے کر سخت کاروائی کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ نصیب دشمناں، الٹا طیبہ کے خلاف ہی متعد پولیس مقدمے بن گئے۔ بلکہ ڈی جی نیب نے تو خاتون کو شوہر سمیت اسلام آباد سے اٹھوا کر نیب لاہور منتقل کیا جہاں ان کیمرہ جامہ تلاشی بلکہ انگریزی میں کیویٹی سرچ کی گئی۔ خاتون نے کہا کہ اس کی برہنہ ویڈیوز اس کے شوہر کو دکھائی گئیں۔
طیبہ نے تمام کالے واقعات پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے سامنے بیان کئے، اور اپنے پاس موجود شواہد کو پیش کیا۔ طیبہ کے الزامات اور شواہد کا ملاحظہ کرنے کے بعد کمیٹی میں تاسف کی لہر دیکھنے کو ملی۔ نور عالم، کمیٹی کے سربراہ، نے ہدایات جاری کیں کہ طیبہ کی نالش میں درج افسران کو حتمی فیصلے تک نوکریوں سے معطل کیا جائے اور سابق جج جاوید اقبال کو نوٹس کیا جائے تاکہ ان کا موقف سن کر کمیٹی اپنا فیصلہ جاری کرے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق طیبہ گل کے الزامات نے عمران خان اور ان کی ٹیم پر سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں۔ اپنے مخالفین کو سبق سکھانے کیلئے عمران خان نے جو حربے استعمال کئے ہیں ان سے میکاولی کے شہزادے کی یاد تازہ ہو گئی۔ عمران خان نے پیپلز پارٹی کے لگائے جاوید اقبال کے خلاف ثبوتوں کو یوں استعمال کیا جیسے کسی جن کے خلاف اس کا طوطا، اور نیب کی ساری توپیں شریف خاندان کی طرف موڑ دیں۔ اگر مغرب میں کسی سیاستدان پر ایسے الزامات لگائے جاتے تو وہ لازما سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لیتا یا اپنی بے گناہی کے ثبوت لے کر عدالت سے رجوع کرتا۔
دیگر جدید حکومتوں کی طرح، تحریک انصاف کی حکومت نے بھی میڈیا پر دباؤ رکھا۔ تحریک انصاف نے اپنی کمیوں اور کوتاہیوں پر خاموشی اختیار کئے رکھنے اور سب اچھا ہے کا پرچار کرنے کے لئے سوشل، پرنٹ الیکٹرانک میڈیا پر اپنے ٹائیگرز چھوڑ رکھے تھے جو متبادل ٹرینڈ چلا کر سنگین خبروں کو ڈیفیوز کرتے تھے۔ مگر یہ طریقہ کار اب دوسری جماعتوں میں بھی جڑ پکڑ رہا ہے، پیپلز پارٹی، نواز لیگ بھی پروپیگینڈا کرنے کے لئے بیرون ممالک میڈیا ٹیموں کی خدمات حاصل کر رہے ہیں۔ جس سے خدشہ ہے کہ آنیوالے دنوں میں سچ اور جھوٹ میں تفریق کرنا ناممکن ہو جائے گا۔

0 تبصرے
LIKE N SHARE