رواں مہینے، بورس جانسن حکومت کے درجنوں ارکان نےمستعفی ہوگئے۔ ان اراکین میں جانسن بابو کی کابینہ کے ممبر بھی شامل ہیں۔ یہ استعفے ان تمام اسکینڈلز کا نتیجہ ہیں جو بورس بادشاہ کے دور حکومت میں سامنے آئے۔ مگر حال ہی میں سابق ٹوری وزیر پھنچار نے دو آدمیوں پر دست درازی کے الزام کے بعد اپنے عہدے سے جو استعفیٰ دیا اس نے استعفوں کو ہوا دی۔ معلوم ہوا ہے کہ پھنچار پر وزیر بننے سے پہلے بھی دست درازی جیسے سنگین الزامات تھے اور یہ سب ان کی انٹیلی جنس رپورٹ فائل میں درج تھا۔ پہلے پہل تو جانسن نے پھنچار کے خلاف پچھلے الزامات کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا، مگر برطانوی میڈیا میں شائع ہونے والی نئی معلومات نے بورس کو اپنی کہانی تبدیل کرنے پر مجبور کردیا۔
برطانوی وزیر اعظم
استعفیٰ دینے والے ٹوری ارکان میں سے کچھ نے کہا کہ وہ عوام کے سامنے جانسن کے جھوٹ کا مزید دفاع نہیں کرسکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ جانسن کے ساتھ وابستگی نے ان کے سیاسی مستقبل تاریک کر دئیے۔
کووڈ-19 کے دوران اپنی رہائش گاہ پر راز و نیاز کی پارٹیاں کرنے کے الزام میں جانسن پہلے ہی عدم اعتماد سے بال بال بچے ہیں۔
0 تبصرے
LIKE N SHARE