کسی منچلے انصافی کی جانب سے گذشتہ روز سوشل میڈیا پر ڈالا گیا ایک ویڈیو کلپ خوب کلکس بٹور رہا ہے۔ اس میں نظر آنے والا کردار آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل شجاع پاشا کا بہروپ دھارے پاکستان آرمی نے چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی برائیاں اور پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی تعریفوں کے پُل باندھ رہا ہے۔ اس ویڈیو کے جعلی ہونے کی تصدیق بسے پہلے تحریک انصاف کے وہ حمائیتی جو عدم اعتماد سے آج تک پاکستانی فوج کے نیوٹرل ہونے پر خفا تھے بہت خوش اور پرجوش ٹوئٹس کررہے تھے۔ مگر ویڈیو کے جعلی نکلنے پر دوبارہ فوج کی کردار کشی کرنے لگے۔ عمران خان فوج سے سب زیادہ ناراض ہیں اور ان کی ناراضگی جائز بھی ہے۔ عمران خان کی جگہ کوئی بھی ہوتا تو ایسے ہی ناراض ہوتا۔
تحریک انصاف، عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کامیاب ہو جانے کے بعد سے پاکستانی افواج اور اس کے سربراہان کے بارے میں ہتک آمیز، سخت اور تضحیک کے زمرہ میں آنیوالے مواد کا پرچار کرکے عوام میں عمران خان کے مظلوم ہونے کا ایک تائژ قائم کرنے کی مہم چلائے ہوئے ہے۔ اس بات کاعمران خان کو بھی اچھی طرح اندازہ ہے کہ پاکستانی فوج کبھی نیوٹرل نہیں ہوسکتی۔ مگر اس قسم کا بیانیہ پھیلا کر وہ فوج کو اکسانا چاہتے ہیں تاکہ راولپنڈی کے راجے، عمران کی شارٹ باؤلنگ سے گھبرا کر صبر کا دامن ہاتھ سے جانے دیں اور اپنی وکٹ نمایاں کردیں۔
جنرل باجوہ پر بڑی سخت ذمہ داری آن پڑی ہے، جو سبھی پاکستانی جنرلز پر آتی رہے ہے۔۔۔اپنا جانشین منتخب کرنا۔ چیف کا جانشین بننے والے کو دو باتوں کا خیال کرنا نہایت ضروری ہے۔ نمبر ایک، اپنے باس کو محفوظ اخراج مہیا کرنا اور نمبر دو ۔۔ نمبر ایک کو ہر طرح سے یقینی بنانا۔
جنرل باجوہ نے یہ سہولت جنرل راحیل کے لئے مہیا کی، راحیل صاحب نے کیانی کے لئے، کیانی نے مشرف کے لئے۔۔۔
ملک کی سیاست میں اس وقت فوج کی قطعا کوئی ضرورت نہیں۔ جانشین نامزد کرنا زیادہ اہم ہے۔ اس کام سے فراغت کے بعد جس جماعت کو بھی فوج کی نیوٹرالٹی سے شکائیت ہے وہ بفضل خدا رفع ہو جائے گے، ڈنڈے سے سب کو شفا ہو جائے گی۔
.jpeg)
0 تبصرے
LIKE N SHARE