حکومت پاکستان نے فیصلہ کیا ہے کہ عمران خان کے خلاف سپریم کورٹ میں ڈیکلیئر یشن فائنل کیا جائے آئندہ جو کیبنٹ کا اجلاس ہے وہ لا منیسٹر ی کی پریفنگ کی روشنی میں منظوری دے گا اور ایسے ممنوعہ اکاؤنٹ جن کو ڈیکلیئر نہیں کیاگیا یاں ایسے اکاؤنٹ جن پر حکومت کو شبہ ہے کہ انکے ذریع منی لانڈرنگ ہوئی ہے انہیں ایف آ ئی اے کو دیا جائے گا تاکہ تحقیقات کی جا سکیں اب معاملہ خاسا پیچیدہ ہو گیا ہے ۔اگر کوئی سیاسی جماعت کسی باہر کے ممالک سے پیسے منگوائے گی وہ فارن فنڈنگ ہی کے ذمرے میں آ ئے گی۔ سیاست میں عمران خان کو عوام کو بتانا ہوگا کہ چار سال میں عمران نے کیا کیا ؟ اور اگر یہ کیس 2008 سے 2013 کا ہے تو 2014 سے آ پ نے دھرنا دیا ۔۔عمران خان اب بری طرح پھنس گئے ہیں اور ن لیگ انہیں بل لکل بھی اس معاملے سے نکالنے نہیں دے گی ۔عمران خان کو بہت سوچ سمجھ کر اپنے اس الجھے ہوئے معاملے کو سلجھانا پڑے گا عارف نقوی نے عمران خان کو اچھی خاصی رقم دی ہے۔عارف نقوی یورپ اور امریکہ میں مطلوب شخص ہے اور عارف نقوی کی جو فنڈنگ ہے وہ ممنوعہ اور فارن فنڈنگ ہے اور انہیں عدالتوں کو جواب دینا ہو گا۔عمران خان صاحب سے جب پوچھ گیا کہ الیکشن کمیشن جس کو آ پ نے خود طناعت کیا اور آ ج آپ انہیں گالیاں کیوں دے رہے ہیں جس پر عمران خان نے یو ٹرن لیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کی طناتی ہمیں نیوٹرلز نے کروائی تھی۔عمران خان کی پارٹی آ جکل شدید پریشانیوں میں مبتلا ہے اور ہو سکتا ہے کہ عمران اگر اپنی بات کو عدالتوں میں صحیح طریقے سے بیان نہ کرسکے تو نا اہل بھی ہو سکتے ہیں جس سے نواز شریف کے دل کو ٹھنڈک اور انکے بیانے مجھے کیوں نکالا کو تسکین ملے گی اور اگر عمران خان اس جال سے نکلنے میں کا میاب ہوگئے تو توشہ خانہ کا کیس عمران خان کے گلے کی ہڈی بن سکتا ہے ای
0 تبصرے
LIKE N SHARE