سلمان رشدی کو گزشتہ کئی برسوں سے دھمکیاں ملتی رہیں ہیں اور انکے لیئے نارمل زندگی گزارنا نہایت مشکل ہے جبکہ 1989میں ایران کے رہبرِ اعلیٰ نے ایک بیان جاری کیا جس میں انہوں نے سلمان رشدی کی موت کا مطالبہ کیا تھا ۔ایک خبر رساں ایجنسی نے بتایاہے کہ جب ان پر قاتلانہ حملہ کیا گیا اس وقت وہ ایک نجی تقریب میں خطاب کر رہے تھے ایک ویڈیو کلپ وائرل ہوئی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کس طرح ایک مرد ان پر جھپٹا اور اس واقع کے بعد انکے گارڈز انکی حفاظت کرنے کے لیے لپکے اور سامان رشدی نے اپنی ایک وڈیو میں پہلے بھی کہا تھا کہ ان کو بنیادی ضروریات کے حصول کے لیے بھی اپنے گاڈذ پر انحصار کرنا پڑتا ہے یاد رہے سلمان رشدی ایک مصنف ہیں جنھوں نے بہت سی کتابیں لکھیں ہیں اور انہیں انعامات سے بھی نوازا گیا ہے مگر ان کی ایک کتاب میں انہوں نے مسلمانوں کے مذہبی پیشوا کے بارے میں نا مناسب الفاظ کا استعمال کر کے مسلمانوں کے دلوں کو دکھایا ہے جس کی سزا وہ اب تک کاٹ رہے ہیں ۔
0 تبصرے
LIKE N SHARE