چین کے جنگی اقدامات کے بعد جاپان سے امریکہ کے وعدے معاہدے۔
متحدہ امریکہ کے وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے چین کی جانب سے داغے گئے میزائلوں اور چینی فوجی مشقوں کو مغربی نیو لبرل سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف محاذ آرائی سے تعبیر کیا ہے۔ بلنکن کا کہنا تھا کہ نینسی پلوسی کی تائیوان آمد پر چین کا ردعمل غیر ضروری تھا۔ واضح رہے کہ کہ امریکہ چین کی بڑھتی اقتصادی قوت سے پریشان ہے۔ اس کے پیش نظر امریکہ تبت اور لداخ کے معاملے پر بھارت کی حمائت کر چکا ہے اور تائیوان میں چین کی مخالفت بھی امریکہ کی اسی پالیسی کا حصہ ہے۔
اس سے پہلے، برطانیہ کئی سالوں تک ہانگ کانگ پر مسلط رہا اور چین کے اندرونی معاملات میں در پردہ دخل اندازیاں کرتا رہا ہے۔
چین کے واضح طور پر منع کرنے کے باوجود امریکہ نے نینسی پلوسی کو تائیوان روانہ کیا تاکہ معاملات میں تلخی کا عنصر بڑھے اور چین کی توجہ روس کو یوکرائین معاملے پر سپورٹ کرنے سے ہٹ کر تائیوان کی جانب مبذول ہو۔
عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ عالمی جنگ چھیڑنے کے عوامل، امریکہ اور اس کے مغربی اتحادی پورے کر رہے ہیں اور مستقبل میں چین کا روس کو اس جنگ کا الزام دینا سراسر غلط ہوگا۔
ایمن الظواہری کا قتل بھی اسی گیم پلان کا ایک حصہ ہے، یہودی خبر رساں ادارے ارورا کی رپورٹ کے مطابق، طالبان اور دیگر مسلح تنظیموں نے ممنکہ عالمی جنگ کے پیش نظر، اسرائیل پر چڑھائی کی منصوبہ بندی شروع کردی تھی۔ اسی لئے گذشتہ ہفتوں میں اسرائیلی شدت پسندوں کی جانب سے محصور فلسطینی عوام کو حماس کے ساتھ تعلقات کے الزام میں اغواء کے بعد قتل کرنے کے واقعات میں تیزی آئی ہے۔

0 تبصرے
LIKE N SHARE