سلیم صافی اور شہباز نذیر گل میں جنگ، سخت الفاظ کا استعمال
سلیم صافی ایک دائیں بازو کے صحافی ہیں، جنہوں نے اپنے صحافتی کریئر دوران پاکستانی سیاست کے بہت سے تلخ اور نازک موضوعات پر لکھا، سوالات اٹھائے اور انٹرویوز بھی کئے۔ سلیم صافی اپنے طرز سے ھمیشہ ارباب اختیار اور سیاسی بھیڑ چال کے مخالف نظر آتے ہیں۔
حال ہی میں تحریک انصاف میڈیا ٹیم سے تعلق رکھنے والی جویریہ صدیق نامی ایک خاتون صحافی نے اپنے تبصرہ میں کہا "اگر سلیم صافی کی صدر پاکستان والی خبر میں صداقت ہوتی تو عمران خان کیسے تعزیت پر چلے گئے انکو جھوٹی خبر پر قارئین سے معافی مانگنا چاہیے۔" اس کے جواب میں شہباز نذیر گل نے ٹوئیٹ لکھا کہ سلیم صافی اور ان سے ایسی خبریں لگوانے والے شیطان بے شرمی کے اعلی مقام پر ہیں۔ سلیم فکری طور پر بیمار ہیں، بے شرم ہیں۔
میڈیا کیچ نامی ایک تنظیم نے شہباز نذیر گل کی ایسی غیر اخلاقی اور معیاری ٹوئٹس پر افسوس کا اظہار کرتے ہو لکھا کہ میڈیا شخصیات پر چاہتے نہ چاہتے بھی معاشرے کی تربیت کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ ان کے طرز عمل سے مشاہدہ کرنے والوں میں غلط اطوار اپنائے جانے کا خدشہ بالک نہیں ہونا چاہئے۔ مگر شہباز نذیر گل، تحریک انصاف کے اکثر دیگر اراکین کی طرح اس اصول سے بے پرواہ اپنے راگ الاپ رہے ہیں۔
تحریک انصاف کی میڈیا ٹیم کی اکثریت ایسے لوگوں پر مشتمل ہے جن کے کاغذی طور پر اپنے تعلقات پاکستان سے ختم ہوچکے ہیں۔ انہوں نے ایسے بیرون ممالک کی شہریت لے رکھی ہے جہاں کے عوام پاکستانی خبروں سے بالکل لاپرواہ رہتے ہیں۔ نتیجتا شہباز نذیر گل اور ان جیسے دیگر انصافی اراکین سے پاکستان میں اچھی تبدیلی کی توقع نہیں رہی۔
شہباز نذیر کے ایسے لغو ٹویٹ کارگر ثابت ہوئے، سلیم صافی نے بھی نذیر گل کے بیٹے کو جوابا، امریکا اور گولڈاسمتھ خاندان کا نوکر اور دلال لکھا، جو جادو اور ٹونے کرنے والوں کا ساتھی ہے۔


0 تبصرے
LIKE N SHARE