اگر آپ کسی ایسی کتاب کی تلاش میں ہیں جو صرف آپ کا وقت نہ بہلائے، بلکہ آپ کے سوچنے کا انداز بدل کر رکھ دے؟ تو عالمی شہرت یافتہ مصنفہ اُرسلا کا افسانوی مجموعہ "The Wind's Twelve Quarters" (ہوا کے بارہ رخ) آپ کے لیے ہی ہے۔ سائنس فکشن اور افسانوی دنیا میں یہ کتاب ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے، جو قاری کو حقیقی دنیا سے دور، تخیل کی وسعتوں میں لے جاتی ہے۔
یہ کتاب مختصر کہانیوں کا مجموعہ ہے۔ اس کی خاص بات یہ ہے کہ یہ کہانیاں مصنفہ کے ادبی سفر کے ارتقا کو ظاہر کرتی ہیں۔ اُرسلا نے خود ہر کہانی سے پہلے ایک مختصر تعارف لکھا ہے، جس میں وہ کہتی ہے کہ اس کہانی کا خیال اُس کے ذہن میں کیسے آیا۔ یہ انداز قاری کو مصنفہ کے دماغ اور تخلیقی عمل کے بہت قریب لے آتا ہے۔
اس کتاب میں شامل کہانیاں کسی ایک رنگ کی نہیں ہیں۔ ان میں جہاں جادوئی دنیا، ڈریگن اور جادوگر موجود ہیں، وہاں خلا کی گہرائیوں، دور دراز سیاروں اور مستقبل کی ٹیکنالوجی کا ذکر بھی ملتا ہے۔ مصنفہ کا کمال یہ ہے کہ وہ ٹیکنالوجی سے زیادہ انسانی نفسیات، معاشرتی اخلاقیات اور فلسفے پر بات کرتی ہیں۔ یہ کہانیاں قاری سے سوال کرتی ہیں کہ وہ اپنی خوشی کے لیے کس حد تک گر سکت ہیں؟ اگر کسی معاشرے میں جنسی تفریق ختم ہوجائے تو عام زندگی کیسی ہو گی؟ قربانی اور محبت کی کوئی حد ہے؟
اگر آپ اب بھی کتاب پڑھنے کا شوق بچائے ہوئے ہیں تو اس کتاب کو اپنے مطالعے کا حصہ بنائیں۔
0 تبصرے
LIKE N SHARE