Ticker

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

بھارتی سپریم کورٹ کو لینے کے دینے پڑ گئے

 بھارتیہ جنتا پارٹی کی رکن نوپر بے شرما، توہین آمیز بیان دینے کے بعد سے روپوش ہے۔ اس واقع کے بعد سے پورے بھارت کے مسلمانوں میں شدید غم اور غصے کی لہر دوڑ گئی تھی۔ کئی مقامات پر بھارتیہ مسلمانوں نے احتجاج اور مظاہرے بھی کئے۔ مودی سرکار نے بھی امن قائم رکھنے کے بہانے ایسے مظاہرین کی گرفتاریاں کیں، ان کے گھر اور دکانیں مسمار کیں، لاٹھی چارج کیا اور خوب مظالم ڈھائے۔ ان حالات میں قائم کشیدگی کو مزید ہوا دینے کے لئے بھارتیہ شر پسند عناصر نے بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی، کہیں مسلم لوگوں کو جاں بحق کیا تو کہیں ہندوؤں کی جان اور املاک کو نشانہ بنایا۔

دنیا بھر میں نسل کشی جرائم پر نظر رکھنے کے لئے گریگری سٹینٹن کی تنظیم نے، حال ہی میں ان حالات کے پیش نظر خدشہ ظاہر کیا تھا کہ ہندوتوا، شیو سینا، آر ایس ایس اور دیگر ہندو انتہا پسند تنظیمیں بھارتی مسلمانوں کی نسل کشی شروع کر سکتی ہیں۔ ان رپورٹس اور دیگر خبروں کے تناظر میں بھارتیہ سپریم کورٹ نے نوپر شرما کو ایک بے لگام  زبان والی عورت کے القاب سے نوازا تھا، جس سے یہ تائژ ملتا ہے کہ سپریم کورٹ بھارت میں امن کی بگڑی صورتحال پر نوپر بے شرما کی سرزنش کر رہی ہے اور اودھے پور میں ایک ہندو درزی کے قتل کی بلاواسطہ ذمہ داری بھی نوپر بے شرما پر ڈال رہی ہے۔

تفصیلات کے مطابق ملزمہ نوپر بے شرما نے فرضی نام سے سپریم کورٹ کے سامنے درخواست گذرای تھی کی اس کے خلاف درج تمام ایف آئی آرز کو ایک عدالت کے ماتحت کردیا جائے تاکہ ایک ہی جگہ ان کی تفتیش اور پیروی کرنے میں آسانی ہو۔ اس پر عدالت نے ملزمہ کے وکیل سے پوچھا کہ کیاملزمہ نے فرضی نام سے اس لئے درخواست گذاری ہے کہ لوگوں کو پتہ نہ چلے؟ اس پر وکیل موصوف نے کہا کہ اس کی موکلہ کو شدید خطرات درپیش ہوسکتے ہیں اس لئے ایسا حفاظتی اقدام کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ ملزمہ کی دیدہ دلیری دیکھئے کہ پورے ملک میں اودھم برپا کرکے عدالت سےصوابدیدی دادرسی طلب کرنے آگئی، ملزمہ کا طرز عمل پورے ملک میں جلاؤ گھیراؤ کا باعث بنا ہے۔ ٹی وی پروگرام میزبان نے تمام شرکاء کو (بشمول ایک مذبی لیڈر) بھڑکایا۔ یہ خاتون بے حد زبان دراز ہے، غیر ذمہ دارانہ بیانات جاری کرتی ہے، افسوس کی بات تو یہ کہ خود کو دس سالہ تجربہ رکھنے والی وکیل بتاتی ہے۔

اس پر نوپر کے وکیل نے عدالت سے کہا کہ ملزمہ نے متذکرہ بیان واپس لے لیا ہے، اور خود عدالت کا اپنا حکم ہے کہ جب ایک ہی واقع پر دو یا اس سے زیادہ ایف آئی آزر درج ہو جاویں تو سب سے پہلے درج ہونے والی مقدم رہے گی اور تمام اگلی کاروائیاں اسی ایف آئی آر کے تحت اس ہی مقام پر کی جاویں گی۔ چونکہ ملزمہ کے خلاف پہلی ایف آئی آر دلی میں درج ہوئی اس لئے تمام ایف آئی آرز کو دلی پر اکٹھا کیا جانا مناسب ہے۔ 

Muhammad Zubair and Nupur
عدالت نے کہا کہ بیان واپس لینے کا یہ کیا طریقہ ہے؟ ملزمہ آن ائیر جا کر بیان واپسی لیتی اور پورے بھارت سے معافی مانگتی۔  اور ہمارا منہ مت کھلوائیں، دلی پولیس نے اُس ایف آئی آر پر کیا کاروائی کی ہے؟ جب ملزمہ محمد زبیر کے خلاف شکائت درج کرائے تو ملزم فورا گرفتار ہوجاتا ہے اور جب خود اس کے خلاف ایف آئی درج ہوئی تو پولیس نے تھانے بھی نہیں بلایا؟

ملزمہ نے وکیل نے عدالت کوعدالت کو بتایا کہ محمد زبیر، ملزمہ کی درج کرائی شکائیت کے تحت گرفتار نہیں ہوا۔ اور خود عدالت نے ارناب گوسوامی اور ستندر سنگھ بھاسین کے فیصلوں میں ایف آئی آرز کو یکجا کرنے کا لکھا ہے۔ وکیل موصوف نے کہا کہ ملزمہ سے قواعد کے مطابق تفتیش کی جاتی رہے، مگر جیسے پہلے ایک ہی نوعیت کے مقدمات کو ایک ہی جگہ اکٹھا کرنے کا حکم دیا جاتا رہا ہے ایسے ہی ملزمہ کے معاملہ میں بھی کیا جائے ۔ 

دلائل سننے کے بعد عدالت نے کہا کہ ملزمہ خود کو اتنا ماھان سمجھتی ہیں کہ مجسٹریٹ کے سامنے یہ درخواست ڈالنا ان کو ناگوار گزرا، ہائیکورٹ کے سامنے ایف آئی آر ختم کرانے کی درخواست بھی نہیں دی اور سیدھا سپریم کورٹ چلی آئیں۔ معاملہ کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے عدالت یہ نہیں سمجھتی کہ ملزمہ کے لئے عدالت صوابدیدی اختیار استعمال کرے۔ ملزمہ کے وکیل نے درخواست خارج ہونے سے بچانے کے لئے استدعا کی یہ ملزمہ کی پٹیشن واپس لینے اجازت دی جائے۔

ایسے ریمارکس کے بعد سے میڈیا اور بھارتی وکلاء فورزم، بھارتیہ سپریم کورٹ پر شدید نقطہ چینی کرتے نظر آتے ہیں۔ ملزمہ کی درخواست سننے والے جج کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ کہا جارہا ہے کہ عدالت اپنی صوابدید استعمال کرتی مگر نوپر (بے) شرما کی شخصیت پر ذاتی نوعیت کی جملہ بازی سے احتزاز کرتی۔

اس سارے معاملے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہندو انتہا پسند، بھارتی سپریم کورٹ کو دباؤ میں لانا چاہ رہے ہیں۔ تاریخ کے اوراق سے یہ واضح ہے کہ بھارتی عدالتیں ہندو دباؤ کے خلاف زیادہ دیر تک ٹکی نہیں رہ سکتیں۔ عنقریب نوپر بے شرما کے خلاف مقدمات کسی ہندوتوا نواز "ڈفیوزنگ" جج کے پاس منتقل ہونے کے امکانات اب واضح ہو چکے ہیں۔ کیونکہ سپریم کورٹ نے بھی اشارۃ ملزمہ کے وکیل سے کہا ہے کہ جا کر ہائیکورٹ سے دفعہ 482 بھارتی ضابطہ فوجداری کے تحت ایف آئی آرز ختم کروالیں۔ یعنی نوپر بے شرما پر لعن طعن کرنے کا یہ محض عدالتی ڈھکوسلہ تھا اور کچھ نہیں۔

بابری مسجد، گجرات، اور اس جیسے سینکڑوں واقعات جن سے بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں اس بار بھی بھارت میں مسلمانوں کے متوقع قتل عام سے نہ صرف بے پرواہ رہیں گی بلکہ بھارت میں ان انسانیت سوز جرائم سے دنیا کی توجہ ہٹانے کے لئے کوئی نیا شوشہ بھی چھوڑیں گی اور ادھر بھارتیہ سرکار اپنے ہندوتوا کے بت پر مسلمانوں کے خون کی بلی چڑھاتی رہے گی۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے